بنگلورو۔23/دسمبر(ایس او نیوز) دیہی اور شہری علاقوں میں سرکاری زمینات پر تعمیر غیر قانونی مکانات کو باقاعدگی دینے کیلئے اکرما سکرما اسکیم کے تحت طے شدہ مہلت کو ایک ماہ کیلئے بڑھایا جائے گا۔ یہ بات آج ریاستی وزیر مالگذاری کاگوڈ تمپا نے بتائی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اکرما سکرما اسکیم کے تحت غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدگی دینے کیلئے 20 دسمبر تک کی مہلت دی گئی تھی۔ اس وجہ سے بہت سارے لوگوں کو اس اسکیم سے استفادہ کا موقع نہیں ملا، لہٰذا اس مدت کو 21/ جنوری 2017تک وسعت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ایک سرکاری سرکیولر بھی جاری کیاجاچکا ہے۔ دیہی علاقوں میں 50x80 فیٹ رقبہ اور شہری علاقوں میں 30x40 فیٹ رقبے کے مکانات جو سرکاری زمینات پر تعمیر کئے جاچکے ہیں انہیں دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد باقاعدگی دی جائے گی۔ اور اس کے عوض سرکاری بٹرمنٹ چارجس اور دیگر جرمانے وصول کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اکرما سکرما اسکیم کے تحت اب تک 15تا20 لاکھ عرضیاں موصول ہوئی ہیں، پہلی بار اس اسکیم کے تحت اتنی بڑی تعداد میں عرضیاں موصول ہوئی ہیں، ان تمام عرضیوں کو نمٹانے اور فیس حاصل کرنیکے بعد ملکیت نامے دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گرام پنچایت سطح پر ولیج اکاؤنٹنٹ، پنچایت ڈیولپمنٹ آفیسر وغیرہ مشترکہ طور پر ہر دیہات میں غیر قانونی طور پر تعمیر مکانات کا معائنہ کریں گے اور ان مکان مکینوں سے عرضیاں حاصل کرکے ان کے مکانات کو باقاعدگی دینے کیلئے کارروائی شروع کریں گے۔انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں 50x80 رقبہ پر مکان تعمیر کرنے والے افسران کو چھ ہزار روپے کی رقم اداکرنی ہوگی۔ آنے والے دنوں میں اس رقم کو 50 فیصد گھٹانے کا بھی منصوبہ ہے۔اسی طرح شہری علاقوں میں 30x40 رقبہ پر مکان تعمیر کرنے والوں کو ایک ہزار روپے کی رقم ادا کرنی ہوگی۔ دیہی علاقوں میں فارم 94C اور شہری علاقوں میں 94CCکے تحت اکرما سکرما اسکیم کا سرکیولر جاری کیا گیا ہے۔